ایف آئی اے نے عدالت سے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی گرفتاری مانگ لی

Shahbaz and hamza Photo File 640x480
شہباز شریف اور ھمزہ شہباز۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: ایف آئی اے کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس میں عدالت سے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی اور عدالت سے دونوں کی گرفتاری کی درخواست کی.
مردان ٹائمز کے مطابق لاہور کے اسپیشل سینٹرل کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف شوگرملزکے زریعے 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی. سماعت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور پنجاب کے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز پیش ہوئے.
عدالت میں سماعت کے موقع پر اسپیشل کورٹ نے کیس میں نامزد تمام ملزمان کی حاضری مکمل کرلی اور اسپیشل کورٹ کے پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے وزیراعظم شہباز شریف اوروزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف ضمنی چالان جمع کرایا۔
لاہور کے اسپیشل کورٹ میں سماعت کے دوران شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی طرف سے نامزد وکیل امجد پرویز نے عدالت میں دلائل دیے اور عدالت کو کہا کہ حمزہ شہباز کے ذاتی اکاؤنٹس میں ایسی کوئی رقم نہیں آئی۔ انھوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ڈیڑھ سال تک ایف آئی اے نے اس کیس میں ھمزہ شہباز کے خلاف تحقیقات کیں، مگر ان کے خلاف کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ وکیل امجد پرویز نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ حمزہ شہباز پرمخالفین کی جانب جو الزامات لگائے ہیں وہ تمام بے بنیاد ہیں. انھوں نے کہا کہ تمام ٹرانزیکشنز قانونی اور لین دین کاروباری ہے۔
شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ منی لانڈرنگ کا مقدمہ بدنیتی کی بیناد پر گزشتہ دور حکومت میں بنایا گیا ہے۔ وکیل امجد پرویز نے مزید کہا کہ دونوں باپ بیٹا جب جیل میں تھے اور انہیں اس کیس میں شامل تفتیش بھی کیا گیا۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے اس سب کے باوجود دونوں کو گرفتار کرنے کے بجائے کیوں تک مہینوں خاموش رہا۔ کیس کی سماعت کے دوران پنجاب کے وزیراعلیٰ کے مشیر عطا تارڑ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
سماعت کے دوران لاہور کے اسپیشل کورٹ نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے اس حوالے سے کیا کہتا ہے کہ ان کو ملزمان کی گرفتاری درکار ہے؟ اس سوال پر ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ابھی ملزمان کا مزید کردار ثابت ہونا ہے۔ پراسیکیوٹر نے اس موقع پرجواب دیا کہ اس لیے ملزمان کی گرفتاری درکار ہے۔ سماعت کے موقع پر فاروق باجوہ نے مزید کہا کہ سی ایف او عثمان سمیت دو ملزمان شامل تفتیش نہیں ہوئے۔
اس کے بعد عدالت سے اجازت لینے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے عدالت سے اجازت چاہی اور روانہ ہوگئے.
یاد رہے کہ عدالت نے آج وزیراعظم شہبازشریف اوروزیراعلیٰ حمزہ شہباز کو فرد جرم عائد کیے جانے کے لیے طلب کیا تھا. گزشتہ سماعت کے موقع پرعدالت نے اس سلسلے میں ایف آئی اے کو ضمنی چالان جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

Related Posts