حکومت کا سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف آرٹیکل چھ کی کارروائی کا فیصلہ

Rana Sannaullah Talking to Media 640x480
وفاقی وزیرداخلہ راناثنااللہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے ایک بیان میں کہا ہے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی رولنگ کے خلاف اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وفاقی حکومت نے آرٹیکل چھ کے تحت ریفرینس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مردان ٹائمز کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے اسلام آباد میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے معاملے پر سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آچکا ہے، اور یہ فیصلہ نہ صرف بہت واضح ہے بلکہ اس پرحکومت پوری طرح کا عملدرآمد کی بھی پابند ہے۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وفاقی حکومت نے آرٹیکل چھ کے تحت ریفرنس دائر کرنے پر کام شروع کر دیا ہے۔
وفاقی وزیرداخلہ راناثنااللہ نےاسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس پورے معاملے میں آئین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی رو سے پاکستان کے موجودہ صدر، سابق وزیر اعظم، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے مشترکہ طور پر نہ صرف آئینی طور پر ان کو تفویض کردہ مقدس امانت میں خیانت کی بلکہ پاکستان کے آئین کے ساتھ بھی فراڈ کیا۔ انھوں نے کہا کہ آئین پاکستان کے ساتھ فراڈ کرنا اور اس کو توڑنا سب سے بڑا جرم ہے اورپاکستانی آئین کو توڑنے کی سزا آئین کے آرٹیکل پانچ اور چھ میں بالکل واضح طور پر درج ہے۔‘
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے مزید کہا کہ ’میں مطالبہ کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے آنے کے بعد اخلاقی طور پر ایوان صدر میں بیٹھے شخص کو جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ وفاقی وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ ثابت ہوا کہ اپنی ذاتی اور سیاسی مفاد کے لئے عمران خان نے قومی مفاد کو داؤ پر لگایا اور آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا۔‘
وفاقی وزیرداخلہ نے پریس کانفرنس کے دوران سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں ممکنہ طور پر حکومتی کارروائی کی مزید وضاحت کی اور کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں سوال کیا گیا ہے کہ کیا وفاقی حکومت اور پاکستان کی پارلیمان آئین کے خلاف ورزی کے راستے کو کُھلا رکھے گی یا اس کا سدباب کرے گی؟
تو اس پر وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے مزید وضاحت پیش کی کہ ’ہم نے اس راستے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اس معاملے میں آرٹیکل چھ کا قانون کی رو سے ریفرنس بنتا ہے۔ راناثنااللہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اس حوالے سے دوسرا راستہ یہ اپنایا جاسکتا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اس فیصلے کے تحت ملوث افراد کے خلاف نااہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا جائے اور الیکشن کمیشن ان کو نہ صرف ڈی سیٹ کرے بلکہ قانون کے مطابق ان کو نااہل قرار دے اور آگے کی کارروائی کا فیصلہ کرے۔‘

Related Posts