بلوچستان میں لاپتہ آرمی ہیلی کاپٹر کا ملبہ ساکران سے مل گیا

Army Helicopter 640x480
فوجی ہیلی کاپٹر، فوٹو: فائل

کوئٹہ: بلوچستان میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پاک آرمی کے لاپتہ ہیلی کاپٹر کا ملبہ ساکران کے علاقے سے مل گیا ہے، تاہم اس المناک حادثے میں اب تک شہید یا زخمی ہونے والے افراد کے بارے میں حتمی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
مردان ٹائمز کو کوئٹہ سے ملنے والی تازہ ترین خبروں کے مطابق بلوچستان میں پولیس حکام کے مطابق پیر کی شام ضلع لسبیلہ میں حادثے کا شکار ہونے والے فوجی ہیلی کاپٹر کا ملبہ ساکران کے علاقے سے مل گیا ہے۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ اس المناک حادثے میں شہید ہر زخمی ہونے والی افراد کی کوئی حتمی معلومات اب تک فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
اس سے پہلے پیر کی شب، پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا تھا کہ اس پاک فوج کا ایک ہیلی کاپٹر لاپتہ ہوگیا ہے اور اس ہیلی کاپٹر پر کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت دیگر چھ افراد سوار تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ فوجی ہیلی کاپٹر اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے لاپتہ ہوا تھا۔
لاپتہ ہونے والی فوجی ہیلی کاپٹر میں کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی بھی شامل تھے۔
اس حوالے سے مزید تفصیلا ت کے مطابق پاک فوج کا یہ بدنصیب ہیلی کاپٹر پانچ بج کر 10 منٹ پر اوتھل کے علاقے سے اڑا اور اس نے چھ بج کر پانچ منٹ پر کراچی پہنچنا تھا لیکن راستے میں اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا۔ اس حوالے سے مزید خبروں کے مطابق جب اس فوجی ہیلی کاپٹر کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تو اس کے بعد اس کی تلاش کا عمل شروع کر دیا گیا تھا، ہیلی کاپٹر کے تلاس میں منگل کی صبح ہیلی کاپٹر بھی شامل ہوئے تھے۔
آج بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے پولیس حکام کے ایک سینیئر افسر نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ لاپتہ ہونے والے فوجی ہیلی کاپٹر کا ملبہ ساکران میں موسیٰ گوٹھ کے علاقے سے ایک پہاڑی سے ملا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جائے حادثہ پر پولیس کے علاوہ ایف سی اور فوج کے اہلکار امدادی کاموں کے لئے پہنچ گئے ہیں۔
فوجی ہیلی کاپٹرکی تلاش کے آپریشن میں شامل ایک اور پولیس آفسر نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر اس حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ جائے حادثہ سے اب تک تین لاشیں ملی ہیں تاہم انھوں نے لاشوں کی شناخت یا باقی مسافروں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب پرویز خان، جو کہ ڈی آئی جی پولیس قلات رینج تعینات ہے نے کہا ہے کہ ہم نے جب اس حوالے سے مقامی لوگوں سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا فوج کا ہیلی کاپٹر آخری بار پولیس سٹیشن ساکران کی حدود میں ہیلی کاپٹر کے گزرنے کی آواز سنی گئی تھی۔
اُدھر پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے اب تک فوجی ہیلی کاپٹرکے ملبے کی نشاندہی اور اس میں سوار مسافروں کی خیریت کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

Related Posts