لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے پر فوجی شہدا کے خلاف منفی مہم کی تحقیقاتی کمیٹی میں انٹیلیجنس اداروں کے افسران شامل

Army Helicopter 640x480
فوجی ہیلی کاپٹر، فوٹو: فائل

اسلام آباد: بلوچستان کے ضلع لسبیلہ ہیلی کاپٹر سانحہ اور شہداء سے متعلق ٹویٹر اور فیس بک پر منفی مہم اور پراپیگنڈے کی تحقیقات کے معاملے پر جوائنٹ انکوائری ٹیم کا دائرہ کار بڑھا کر اس میں پاکستان کے اہم انٹیلجنس ایجینسز کے دو افسران بھی ٹیم میں شامل کر لیے گئے ہیں۔
مردان ٹائمز کے مطابق پاکستان وزارت داخلہ نے فیڈرل انویسٹیگیشن اتھارٹی کی طرف سے تشکیل دی جانے والی چھ رکنی ٹیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے ملک کے اہم حساس اداروں جس میں آئی ایس آئی کی جانب سے لیفٹیننٹ کرنل سعد اور انٹیلجنس بیورو کی طرف سے ڈپٹی ڈائریکٹر وقار نثار اس کمیٹی کی نمائندگی کریں گے۔ وفاقی ادارے ایف آئی اے و انٹیلجنس اداروں کی اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم محمد جعفر کی سربراہی میں تحقیقات کرے گی۔
حساس اداروں کے ارکان کے علاوہ اس ٹیم میں ایف آئی اے ڈائریکٹر، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ وقار الدین سید سمیت ایڈیشنل ڈائریکٹر، سائبر کرائم ایاز خان اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمران حیدر کو شامل کردیا گیا ہیں۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اعلیٰ حکام کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے اور انٹیلجنس اداروں کی چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ہیلی کاپٹر حادثے اور اس میں شہید ہونے والے فوجی افسران سے متعلق منفی ٹرینڈ چلانے والوں کا پتہ چلا جائے۔ حکام کی کہنا ہے کہ ان عناصر کے پیچھے کون کون ملوث ہے یا کن کن افراد کے کہنے پر یہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلا کر ملک کو بدنام اور شہداء کی فیملز و قوم کی دل آزاری کی، کا بھی پتہ چلائے گی۔
اعلیٰ حکام کے مطابق ایف آئی اے اور حساس اداروں کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی انکوائری کے بعد اس منفی مہم میں ملوث عناصراور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرکے قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔
اس ہیلی کاپٹر حادثے کے حوالے سے پاک فوج کی تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیلاب کے حوالے سے امدادی کارروائیوں میں شریک اس ہیلی کاپٹر کا ملبہ وندر کے علاقے موسیٰ گوٹھ سے ملا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہیلی کاپٹر کا یہ حادثہ خراب موسم کی وجہ سے پیش آیا تھا۔
یاد رہے کہ ہیلی کاپٹر کے اس حادثے میں کویٹہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، پاکستان کوسٹ گارڈز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل امجد حنیف ستی اور انجینئرنگ کور کے بریگیڈیئر محمد خالد کے علاوہ ہیلی کاپٹر کے عملے کے تین ارکان سمیت پائلٹ میجر سعید احمد، پائلٹ میجر محمد طلحہ منان اور نائیک مدثر فیاض شامل ہیں۔
ہیلی کاپٹر کے اس حادثے کے بعد ایک سیاسی جماعت کے ارکان کی طرف سے سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات اور پوسٹیں شیئر کیے گئے جو کہ پاک فوج اور اس حادثے کے لواحقین کے غم و غصے میں مزید اضافے کا سبب بنے۔

Related Posts