شہباز گل کی جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد، جوڈیشنل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

Shehbaz Gill PTI leader Photo The News 640x480
پی ٹی آئی رہنما، شہباز گل پر اداروں میں بغاوت پر اکسانے کا الزام ہے۔ فوٹو: دی نیوز

السلام آباد: پی ٹی آئی رہنما شہباز گل، جو کہ ملکی اداروں میں بغاوت پر اُکسانے کے الزام میں گرفتار ہے، کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیش کیا گیا،جہاں عدالت نے پولیس کی طرف سے مزید جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کردی اور ان کو جیل بھیج دیا گیا۔
مردان ٹائمز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل، جو کہ ملکی اداروں میں تقسیم پیدا کرنے اور ملک کی اہم اداروں میں بغاوت پر اُکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، کو آج جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کی عدالت میں پیش کیا گیا.
جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیرنے اس کیس کا فیصلہ آج صبح محفوظ کیا تھا جس کوسناتے ہوئے شہباز گل کی جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ان کو جیل بھیج دیا۔ اس سے پہلے پولیس کی طرف سے شہباز گل کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر آج ڈیپٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔ پی ٹی آئی رہنما کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس کی جانب سے عدالت کی حکم پر پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کا طبی معائنہ بھی کروایا، جس کی رپورٹ پولیس نے عدالت میں پیش کی۔
جوڈیشنل مجسٹریٹ عمر بشیر کی عدالت میں سماعت سے قبل کمرہ عدالت افراد سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور تل رکھنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل بھی موجود تھے، جس پر شہباز گل کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل کس حیثیت میں آ گئے، حکومت کی مداخلت دیکھ لیں۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر عدالتی حکم پر شہباز گل کی لیگل ٹیم سے ملاقات کروائی گئی جس میں فواد چودھری سمیت دیگر نے ان سے گفتگو کی۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ شہبازگل کی مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ عدالت میں پولیس کے تفتیشی افسر نے کہا کہ شہباز گل کی آڈیو پروگرام کی سی ڈی لی ہے، جو کہ میچ کرگئی ہے۔ تفتیشی افیسر نے مزید کہا کہ ایک موبائل فون ان کی گاڑی میں رہ گیا تھا، جبکہ دوسرا ان کے پاس تھا۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے عدالت کو بتایا کہ 4 بجے کا وقت تھا اس وقت کوئی موبائل نہیں چل رہا تھا سگنل نہیں تھے۔ شہباز گل نے عدالت میں کہا کہ مجھ پر تشدد کیا گیا، جس کے نشانات میرے جسم پراب بھی موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فزیکل چیک اپ نہیں کیا گیا۔ شہباز گل نے عدالت میں مزید کہا کہ انھیں وکلا سے بھی ملنے نہیں دیا جا رہا۔ انھوں نے اس سلسلے میں عدالت کو مزید کہا کہ ساری رات مجھے جگایا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نےعدالت کو اپنی کمرپر تشدد کے نشانات دکھائے اور کہا کہ جعلی میڈیکل رپورٹ کو دیکھیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے عدالت میں کہا کہ اپنی افواج کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایسی بات کروں۔ عدالتی کاروائی کے موقع پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر خان جدون نے عدالت کو بتایا کہ شہباز گل نے ٹی وی پروگرام میں جو کہا وہ ٹرانسکرپٹ تھا جو پڑھا گیا، لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا کہ کون اس کے پیچھے ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے جہانگیر خان جدون نے عدالت کو بتایا کہ پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے، تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ سچ بول رہے ہیں یا جھوٹ۔ انھوں نے کہا کہ شہباز گل کی موبائل ، لیٹ ٹاپ تک رسائی نہیں دی جارہی۔
ایڈوکیٹ جنرل نے جہانگیر خان جدون نے عدالت میں کہا کہ ڈرائیور کو انہوں نے بنی گالہ میں چھپایا ہوا ہے۔ انہوں نے ملکی اداروں میں بغاوت پر اُکسانے کے کیس میں ملزم کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کردی۔ دوسری طرف شہباز گل کے وکیل فیصل چودھری نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے فزیکل ریمانڈ کی ضرورت ہی نہیں وہ ویسے بھی کرا سکتے ہیں۔
بعد میں جوڈیشنل مجسٹریٹ کی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ان کو جیل بیھج دیا۔

Related Posts