وزیر اعظم کے عہدے پر رہنے والے رہنما سے اس طرح کے بیان کی توقع نہیں کی جاسکتی: اسلام آباد ہائیکورٹ

Islamabad High Court Photo Dawn news 640x480
اسلام آباد ہائی کورٹ: فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کے خلاف خاتون جج کو دھمکی دینے کے معاملے پر توہین عدالت کی کاروائی شروع، وزیراعظم کے عہدے پر رہنے والے رہنما سے اس طرح کے بیان کی بالکل توقع نہیں کی جاسکتی۔
مردان ٹائمز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو خاتون جج کو دھمکی دینے کے معاملے پر توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوئی جس کی مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر نے کہا کہ وزیر اعظم رہنے والے رہنما سے اس طرح کے بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے منگل کے روز پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے مقدمے کی سماعت کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے رجسٹرار کے نوٹ پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت میں سماعت کے دوران اسلام آباد کے ایڈوکیٹ جنرل نے اپنے دلائل شروع کیے اورپی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان کا خاتون ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری سے متعلق بیان پڑھتے ہوئے معزز عدالت سے کہا کہ ان کے متعلق یہ قابل اعتراض اور سخت الفاظ استعمال کیے۔
ایڈوکیٹ جنرل جہانگیر جدون نے جب عمران خان کا خاتون جج کے خلاف دیا گیا دھمکی آمیز بیان پڑھ کر سنایا تو اس پر معزز عدالت نے استفسار کیا کہ عمران خان نے یہ ریمارکس کب دیے تھے اور وہ خاتون جج کون سا کیس سن رہی تھیں؟
اس کے جواب میں اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون نے کہا کہ عمران خان کے یہ قابل اعتراض اور دھمکی آمیز ریمارکس 20 اگست کے ہیں اور خاتون جج پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل کے ریمانڈ سے متعلق کیس کی سماعت کر رہی تھیں۔
عدالت میں سماعت کے دوران اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نے دلائل دیتے ہوئے عدالت سے کہا کہ عمران خان مسلسل عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے خلاف ایسے دھمکی آمیز بیانات دے رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
عدالت میں سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے ریمارکس کہا کہ ’ایک خاتون اور صف اول کی جج کو دھمکی دی گئی۔ اگر یہ ماحول بنانا ہے تو کام تو نہیں ہو گا۔
معززعدالت نے اس موقع پر مزید کہا کہ وزیر اعظم رہنے والے رہنما سے اس طرح کے بیان کی بالکل بھی توقع نہیں کی جا سکتی۔ عدالتی کاروائی کے دوران معززجج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے حل ہونا چاہیے۔
عدالتی کاروائی کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ صرف اسلام آباد کی خاتون جج کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ پورے پاکستان کا نہایت ہی اہم معاملہ ہے کیونکہ پورے ملک میں ججز کام کررہے ہیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ اگر کوئی عدالت آپ کے خلاف فیصلہ دے گی تو اس کےخلاف تقریریں شروع کردیں گے؟
عدالت میں سماعت کے دوران انھوں نے مزید کہا کہ عام آدمی کی آخری امید عدالتیں ہوتی ہے، عام آدمی کو کس طرف لے جا رہے ہیں کہ وہ اٹھے اور اپنا انصاف خود شروع کردے؟
سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ جس خاتون جج کو پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی طرف سے دھمکی دی گئی اسے اضافی سکیورٹی دینے کو تیار ہیں؟
اس کے جواب میں اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ جی، خاتون جج کو اضافی سکیورٹی دینے کو تیار ہیں۔

Related Posts