ملک بھر میں شدید بارشوں کی وجہ سے آج سے قومی ایمرجنسی کا نفاذ ہوگیا، سینیٹر شیری رحمان

Sindh Flood Destruction Photo File 640x480
ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے آج سے قومی ایمرجنسی کا نفاذ کردیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستان کے چاروں صوبوں میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں لوگ جانبحق جبکہ کھڑی فصلیں، باغات، اور آبادیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
مردان ٹائمز کے مطابق ملک بھر میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلابوں کی وجہ سے انسانی جانوں سمیت اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے ماحولیات سینیٹر شیری رحمان نے آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بارشوں کی تباہ کاریوں کی وجہ سے آج سے قومی ایمرجنسی کا نفاذ ہوگیا ہے۔
انھوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اس وقت سوات اور ملک کے دیگر علاقوں میں شدید بارشیں جاری ہے اور اس کی وجہ سے تباہ کاریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ سینیٹر شیررحمان نے کہا کہ ملک بھر میں حالیہ بارشیں تباہ کن سیلاب ساتھ لے کر آئی ہیں، جبکہ سوات میں بھی پل تباہ ہورہے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے ماحولیات سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اس وقت بارشوں کی وجہ سے پانی اتنا زیادہ ہے اور جس تواتر سے آرہا ہے اس سے تباہ کاریاں بڑھ رہی ہیں، اور اسی لیے آج قومی ایمرجنسی کا نفاذ ہوگیا ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اس وقت ملک میں صورتحال انتہائی نازک اور سنگین ہے، جبکہ دوسری جانب وزیر خارجہ و چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اپنا بیرونی دورہ بھی ملتوی کر دیا ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انڈس دریا دو طرفہ ہے اور اس وقت پاکستان کا جنوب تقریبا سارا پانی کی زد میں آگیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے ماحولیات سینیٹر شیری رحمان نے پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ شدید بارشوں کی وجہ سے اس وقت تقریباَ تین کروڑ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی سے نمٹنے اور انسانوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانا کسی ایک ملک اور صوبے کی بس کی بات نہیں ہے۔
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر شیری رحمان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سننے میں آ رہا ہے کہ ستمبر کے بیچ میں بھی اس طرح کے حالات پیدا ہوسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت اس پر توجہ دے رہی ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نےکہا کہ سیلاب ذدگان کی مدد کرنے کے لئے اس وقت پاکستان کی عوام بھی امداد کررہے ہیں، جبکہ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے بھی ریلیف کا انتظام کیا ہے۔
انھوں نے کہا سیلاب زدگان کی مدد کرنے کے لئے اس وقت رہائش اور خوراک کی کمی محسوس ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے کھبی اس طرح کا نہیں دیکھی۔ پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ شدید بارشوں اور سیلاب سے کپاس کی فصل ختم ہو گئی ہے۔
وفاقی وزیر برائے ماحولیات نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب سے اس وقت ملک غذائی قلت پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں ہیں، انھوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا ہماری امداد کرے۔

واضح رہے کہ بارشوں سے سب سے زیادہ ہلاکتیں بلوچستان میں ہوئی ہیں جو کہ 220 سے زائد ہیں۔

Related Posts