منڈا ہیڈ ورکس کو سیلابی پانی سے نقصان، چارسدہ اور نوشہرہ میں سیلاب کا یقینی خطرہ، پی ٹی ایم اے

Charsaddah Flood Photo Twitter 640x480
چارسدہ کے مقام پر منڈا ہہڈ ورکس کا ایک حصہ بہہ گیا ہے۔ فوٹو: ٹویٹر

پشاور: خیبرپختنخوا کے پی ڈی ایم اے کے ایک اہلکارکا کہنا ہے کہ ضلع چارسدہ کے قریب واقع منڈا ہیڈ ورکس کا ایک حصہ حالیہ سیلابی پانی کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے۔ جسکی وجہ سے ضلع چارسدہ ، نوشہرہ اوراس کے گرد و نواح کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ یقینی ہوگیا ہے۔
مردان ٹائمز کو ضلع چارسدہ سے ملنے والی تازہ ترین خبروں کے مطابق ضلع چارسدہ کے قریب منڈا ہیڈ ورکس کا ایک حصہ دریائے سوات میں طغیانی کے وجہ سے بہہ گیا ہے جس کے بعد ضلع چارسدہ، نوشہرہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ اور بڑھ گیا ہے۔
چارسدہ کے قریب منڈا ہیڈ ورکس دریائے سوات کا پانی کنٹرول کرنے کے لیے بنائے گئے اہم ترین ہیڈ ورکس میں سے ایک ہے۔ منڈا ہیڈ ورکس کے ایک حصہ پانی میں‌بہہ جانے کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے متعلقہ آبادیوں اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی جانیں بچانے کی خاطر اپنے گھروں کو فوری طور پر خالی کرکے نکل جائیں اور حکومت کے مقرر کردہ کیمپوں میں پناہ لیں۔
اُدھر ضلع چارسدہ کے پولیس کا کہنا ہے کہ چارسدہ میں خیالی کے مقام پرضلع پشاور کو چارسدہ سے ملانے والے دونوں اہم پلوں پرسیلابی پانی کے تیز بہاؤ کے باعث شگاف پڑ گئے ہیں۔ دوسری جانے پشاورجی ٹی روڈ پر بھی دونوں اضلاع کے درمیان زمینی راستہ منقطع ہو گیا ہے۔


اُدھر ضلع نوشہرہ کے ڈپٹی کمشنر نے بھی اپنے ضلعہ میں اعلانات کے اور دیگر زرائع کے زریعے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ ’اگلے چند گھنٹوں میں انتہاٸی اونچے درجے کا سیلابی پانی ضلع نوشہرہ میں داخل ہو جائے گا۔‘
ضلع نوشہرہ کے ڈپٹی کمشنر نے نوشہرہ کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ ’براہ کرم اپنے عزیزو اقارب اور آس پاس لوگوں کو مطلع کریں, دیر نہ کریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہوجاٸیں۔‘
انھوں نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹ پر ایک پوسٹ میں انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’ضلعی انتظامیہ عوام الناس سےاس مشکل حالت میں تعاون کی متمنی ہے۔ کٸی علاقوں میں لوگوں کی انخلا میں تعاون نہ کرنےکی شکایتیں موصول ہورہی ہے۔ براہ کرم اس سیلاب کی صورتحال کو غیر سنجیدہ نہ لیں۔ اس دفعہ صورتحال2010 کی سیلاب سے بھی گھمبیرہے لہذا انتظامیہ کیساتھ تعاون کریں۔‘
نوشہرہ کے ڈی سی کے مطابق ضلع نوشہرہ کے ’تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے لوگوں کیلٸے کھول دٸے گٸے ہیں جہاں ہر طرح کی سہولیات میسر کی جارہی ہیں۔

Related Posts