نوشہرہ میں ایک مرتبہ پھر سیلاب کا خطرہ، لوگ گھر خالی کرکے متعلقہ ریلیف کیمپوں میں متقل ہوجائے، ڈی سی نوشہرہ کی اپیل

DC Nowshera Photo Twitter 640x480
ڈی سی نوشہرہ۔ فوٹو: فائل

نوشہرہ: دریائے کابل میں پانی کی سطح میں اضافے پر نوشہرہ کے ڈپٹی کمشنر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اپنے گھروں کوخالی کرکے نکل جائے، کیونکہ ضلع نوشہرہ میں ایک مرتبہ پھر سیلاب کا خطرہ بڑہ گیا ہے۔
مردان ٹائمز کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نوشہرہ قرۃ العین وزیر نے کہا ہے کہ اس وقت دریاٸے کابل میں پانی کا بہاٶ تین لاکھ سات ہزار کیوسک ہے جبکہ دریائے سوات کی طرف سے نوشہرہ میں آنے والا ریلہ جو کہ تقریباَ 120000سے 1300000 کیوسک ہے، اگلے چار سے چھ گھنٹوں تک نوشہرہ سے گزرے گا۔
یہ خبر بھی پڑھیں: دریائے سندھ میں طغیانی: میانوالی کی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے الرٹ رہے، وزیر اعلیٰ پنجاب
دریائے کابل کا موجودہ ریلہ جو کہ اس وقت 3 لاکھ 7 ہزار کیوسک ہے اور دریائے سوات سے آنے والے ریلے سے جب نوشہرہ میں ملے گا تو یہ 4 لاکھ 37 ہزار کیوسک تک پہنچے گا جس سے ضلع نوشہرہ میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ضلع نوشہرہ کے جو علاقے اس سیلابی ریلے سے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے وہ درجہ ذیل ہیں:
گڑھی مومنت جبہ داٶد زٸی، کیمپ کورونہ، زخٸ جٹ، بانڈہ شیخ اسماعیل، بانڈہ ملاخان، چوکی درب، کڑوٸی، چوکی ممریز، پشتون گڑھی، نوشہرہ کلاں (ماناخیل، چوکی ٹاٶن، شہلاخیل، ہوتی خیل، نوشہرہ سٹی، الہ یار خیل، ڈاگی خیل، اباخیل، تحصیل روڈ، ڈاگونہ، ہسپتال روڈ، ڈھیری خیل، دھوبی گھاٹ وغیرہ) پیر سباق، امانگڑھ اوردریاٸے کابل سے دیگر ملحقہ علاقہ جات۔

نوشہرہ کی ضلعی انتظامیہ نے متعلقہ علاقوں کے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوری طور بغیر کسی سُستی کے اپنے گھر خالی کریں اور انتظامیہ کی زیرنگرانی ریلیف کیمپوں میں پناہ لیں۔
ڈپٹی کمشنر نوشہرہ نے مزید کہا کہ سیلابی ریلہ آنے کی صورت میں ریلیف آپریشن میں مشکلات اور نقصان کا شدید اندیشہ ہے۔

Related Posts