پاکستان میں قادیانی ایک مرتبہ پھر سے سرگرم، اپنے جماعت خانوں پر میناریں بھی لگا دی

Qadiani Jamat Khana in Jamshed Road Photo Whatsapp 640x480
ملک بھر میں قادیانی فرقہ ایک مرتبہ پھر سے سرگرم ہوگیا ہے، اپنے جماعت خانوں پر میناریں بھی لگا دی ہیں۔ فوٹو: واٹس ایپ

کراچی: اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق کسی قادیانی اور مرزائی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے جماعت خانوں پر مساجد کی طرح مینار اور گنبد بنائے اور دوسرے شعائر کا ستعال کریں۔
مردان ٹائمز کو کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں سے خبریں موصول ہوئی ہیں کہ قادیانی فرقہ پاکستان میں ایک بار پھر سے سرگرم ہوگیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین 1973 جس کو تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کی مکمل حمایت حاصل تھی میں اس شق کو شامل کیا گیا ہےکہ کوئی بھی قادیانی اپنے جماعت خانوں پر مسلمانوں کی مساجد کی طرح گنبد اور مینار وغیرہ یا شعائراسلام کا استعمال ہرگز نہیں کرسکتے۔
1973 کی متفقہ آئین میں اس شق کو شامل کیا گیا تھا اور کوئی بھی اس کی خلاف ورزی کرے تو تعذیرات پاکستان کے تحت سخت ترین مقدمات کا فوری اندراج انتظامیہ پر لازم ہے۔
دوسری طرف مردان ٹائمز کو ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے مطابق جمشید روڈ مارٹن کوارٹر میں قادیانیوں نے اپنے جماعت خانے پر چار بڑے بڑے مینار بنائے ہیں۔ جیسے کہ پہلے کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984 کے تحت ان کو مینار یا گنبد یا کسی بھی شعائر اسلام کو اپنانے کی سختی سے ممانعت ہے اور اس آئین شکنی پر آئین پاکستان 1993 سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت اس پر فوری قانونی کاروائی کا قانون موجود ہے مگر افسوس کوئی ادارہ اور انتظامیہ نوٹس لینے کو تیار نہیں.
اسی طرح کراچی کے صدر الیکٹرانک مارکیٹ میں موجود قادیانیوں کے اس جماعت خانے کی نہ صرف حفاظت کی جارہی ہے بلکہ تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے باوجود مقدمے کی درخواست پر پچھلے 8 ماہ سے مقدمہ درج نہیں کیا جارہا۔
اہل علاقہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قادیانی فوقے کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے اور قادیانیوں کے ان جماعت خانوں سے میناروں اور گنبدوں کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔

Related Posts