عمران خان کا مشترکہ آرمی چیف لانے پر مذاکرات، حکومت کا انکار

PM Shahbaz Sharif 640x480
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے وی لاگرز سمیت دیگر صحافیوں سے گفتگو میں اہم انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کا اصرار ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی مشترکہ طور پر کی جائے، جبکہ میں نے انکار کیا کیونکہ یہ صرف وزیراعظم کا آئینی اختیار ہے۔
مردان ٹائمز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنے ایک کاروباری دوست کے زریعے پیغام دیا کہ آرمی چیف کی تعیناتی مشترکہ طور پر کی جائے جبکہ میں نے اس بات سے قطعی طور انکار کیا ہے، کیونکہ یہ صرف اور صرف وزیراعظم کا قانونی اور آئینی اختیار ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ عمران خان کا پہلا معاملہ آرمی چیف کی تقرری کا ہے اور دوسرا انتخابات کی تاریخ دینے کا تھا تاہم میں نے انکار کر دیا اور انھیں کہا کہ میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت پر بات کرنے کی پیشکش کی۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے کہا کہ تین نام میں بھجواتا ہوں اور تین آپ دیں، اس کے بعد آپ اور میں مل کر آرمی چیف کی تعیناتی طے کر لیتے ہیں، جس کا میں سختی کا ساتھ انکا کردیا اوران کو یہ پیغام بھجوایا کہ یہ ایک آئینی فریضہ ہے اور آئین یہ صوابدیدی اختیار صرف اور صرف وزیراعظم کو دیتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور میں وی لاگرز اور صحافیوں کے ساتھ مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ جب عمران خان نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی تھی تو کیا مجھ سے مشاورت کی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پیغام رسانی والے دوست نے مجھے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان جہاں ڈائیلاگ کرنے کی بات کر رہے تھے تو ساتھ ہی دوسری طرف وہ دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔

Related Posts