صدر نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کرنے کی تردید کردی

President Arif Alvi Photo Twitter- 640x480
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی۔ فوٹو: ٹویٹر

اسلام آباد: پاکستان کے صدر مملکت عارف علوی نے تردید کردی ہے کہ اس نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کی ہے۔

مردان ٹائمز کے مطابق صدر مملکت عارف علوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اللّٰہ گواہ ہے، میں نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط نہیں کیے۔

صدرمملکت نے اس حوالے سے مزید کہا کہ میں ان بلز سے اتفاق نہیں کرتا، اور مزید یہ کہ میں نے اپنے عملے کو کہا کہ بل کو بغیر دستخط کے واپس بھیجیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں نے عملے سے کافی بار تصدیق کی کہ بلز بغیر دستخط کے واپس بھیج دیے گئے ہیں۔

صدر مملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ آج مجھے معلوم ہوا کہ میری مرضی اور حکم کو مجروح کرتے ہوئے میرے عملے نے یہ سب کچھ کیا ہے، اللّٰہ سب جانتا ہے، میں ان سب سے معافی مانگتا ہوں جو ان بلز سے متاثر ہوں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سائفر گمشدگی کیس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ مقدمہ سیکریٹری داخلہ کی مدعیت میں سنگین آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کی دفعہ 5، 9پی پی سی سیکشن 34 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ سنگین آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت اس مقدمہ میں ملوث عناصر کو سخت سزائیں دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسی طرح مزید خبریں