روس نے یوکرین میں جوہری پلانٹ پر حملہ کردیا، یوکرین

Nuclear Plant in Ukraine 640x480

کیف: یوکرینی حکام نے کہا ہے کہ روس نے یوکرین میں موجود جوہری پاور پلانٹ پر حملہ کردیا ہے، جس سے پلانٹ میں آگ لگی ہے.
مردان ٹائمز کو کیف سے تازہ ترین صورتحال کے مطابق یوکرینی حکام نے الزام عائد کیا ہےکہ روسی بمباری کے باعث یوکرین کے جوہری پاور پلانٹ جو کہ یورب کا سب سے بڑا جوہری پلانٹ ہے میں آگ لگی ہے.
اس حوالے سے ایزودر شہر کے میئر دیمیترو اورلوف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جوہری پلانٹ میں آگ روس کی طرف سے مسلسل بمباری کی وجہ سے لگی ہے. یوکرینی وزیر خارجہ اور دیگر حکام نے اس حوالے سے مزید بتایا ہے کہ اگر اس جوہری پلانٹ میں‌دھماکہ ہوا تو یہ چرنوبل سے بھی 10 گنا زیادہ تباہ پھیلائے گا.
دوسری جانب یوکرین سے ایسی اطلاعات بھی آرہی ہے کہ روس کے فوج نے اپنے ٹینکوں کی مدد سے شہر میں داخل ہونے اور جوہری پلانٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن انھیں یوکرین کے فوجیوں اور مقامی رہائشیوں کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے.
اُدھر عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے حکام نے اس حوالے سے کہا ہے کہ یوکرین کے جوہری پلانٹ پر روسی حملے کے باعث آگ لگنے کے بعد ہم یوکرینی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں. امریکی وزیر توانائی جینفرگرینہو نے اس واقعے کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری پلانٹ کو بین الاقوامی محفوظ طریقہ کار اور ظابطوں کے تحت بند کردیا گیا ہے.
روس کی جانب سے جوہری پلانٹ کو نشانہ بنانے کے بعد عالمی رہنماؤں کی طرف سے شدید مذمت کی جارہی ہے. روسی افواج نے جنوبی یوکرین کے علاقے زیپروزیا میں ایک جوہری پلانٹ پر شدید گولہ باری کی تھی جس کی وجہ سے پلانٹ میں آگ لگ گئی ہے.
اس حوالے سے جب مردان ٹائمز نے یوکرین کی ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ پہلے تو انھیں جوہری پلانٹ تک پہنچنے سے منع کردیا گیا تھا لیکن بعد میں وہ اس عمارت تک رسائی حاصل کرنے اور آگ بجھانے میں کامیاب ہوگئے. انھوں نے مزید کہا یہ عمارت محفوط ہے اور خوش قسمتی یہ ہے کہ تابکاری کی سطح بھی معمول کے مطابق ہے.
دوسری جانب مردان ٹائمز کو جو تازہ ترین خبریں موصول ہوئیں ہیں ان کے مطابق اب یہ پلانٹ روسی افواج کے قبضے میں چلا گیا ہے. عالمی رہنماؤں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے. اس حوالے سے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ اس ‘لاپرواہ’ حملے سے پورے یورپ کی سلامتی کو براہ راست خطرہ لاحق ہوسکتا ہے.
اُدھر امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اس واقع کے بعد ماسکو پر زور دیا ہے کہ وہ اس جگہ کے ارد گرد اپنی فوجی سرگرمیاں روک دے. کینیڈا کے وزیراعظم نے بھی روس کی جانب سے جوہری پلانٹ کے نشانہ بنانے کے بعد کہا ہے کہ ‘روس کی جانب سے ان حملوں کو فوری طور پر بند ہونا چاہئے.

Related Posts