خیبر پختونخوا میں ڈینگی کیسز میں خطرناک اضافہ، ضلع مردان میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی

Dengue Fever Patients in Hospital Photo File 640x480
ڈینگی سے متاثرہ مریض اسپتال میں داخل ہیں۔ فوٹو: فائل

پشاور: حالیہ تباہ کن سیلابوں کے بعد ملک بھر کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی ڈینگی کیسز میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جس کے بعد مردان کے ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔
مردان ٹائمز کے مطابق ملک بھر میں حالیہ تباہ کن بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلابوں کی وجہ سے ملک بھر میں ڈینگی نے پنجے گاڑلئے ہیں۔ ملک کی دیگر علاقوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی ڈینگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
اس سلسلے میں ضلع مردان کی ضلعی انتظامیہ نے ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے جس کے تحت پُرانے ٹائروں کو کھلی فضا میں رکھنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ضلع مردان کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں اس بات کی ہدایت کی گئی ہے کہ ضلعی انتظامیہ مردان نے کباڑ و دیگر اشیا کھلی فضا میں رکھنے پر بھی پابندی لگادی ہے۔ اسی طرح کھلی فضا یا عوامی مقامات پر واٹر ٹینک رکھنے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں
خیبر پختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی نے مزید 307 افراد کو اپنا شکار بنا لیا ہے۔ اسی طرح صوبہ خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 4188 تک پہنچ گئی ہے۔ پشاور سے ملنے والی خبروں کے مطابق پشاورمیں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ ڈینگی کیسز 153 رپورٹ ہوئے جس کے بعد وہاں پر مجموعی تعداد 571 ہوگئی ہے۔
اس کے بعد دوسری نمبر پر ضلع مردان ہے جہاں سے ڈینگی کے نئے 73 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ضلع مردان میں ڈینگی کی مثبت کیسز کی مجموعی تعداد 1531 ہوگئی۔
اُدھر ضلع نوشہرہ میں بھی ڈینگی کے وار جاری ہے جہاں سے ڈینگی کے نئے 37 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد وہاں اس کی مجموعی تعداد 415 تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب دیر لوئر سے ڈینگی کے نئے 15 کیسز رپورٹ ہوئے اور اس علاقے میں ڈینگی کی مثبت کیسز کی تعداد 215 ہوگئی جب کہ ہری پور سے ڈینگی کے نئے 11 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد یہاں پر اس کی مجموعی تعداد 294 ہوگئی ہے۔
ڈینگی کے حوالے سے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لئے مردان کی ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کردی ہے، تاکہ اس کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔ اسی طرح ضلع مردان میں لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی گھر گھر جاکر ڈینگی کے حوالے سے آگاہی مہم چلا رہے ہیں اور اس حوالے سے گھروں میں آگاہی پھیلا رہے ہیں۔

Related Posts