صوبہ سندھ کے 14 ضلعوں میں بلدیاتی انتخابات کے لئے ووٹنگ جاری ہے

Election_in_Pakistan_640x480
الیکشن کے دوران ووٹ ڈالنے کے لئے ووٹرز اپنا ووٹ ڈال رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

کراچی: پاکستان کے صوبہ سندھ کے 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے، ان بلدیاتی انتخابات میں صوبہ سندھ کے ان 14 اضلاع میں مجموعی طور5331 نشستوں پر 21298 امیدوارایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔
مردان ٹائمز کے مطابق پاکستان کے صوبہ سندھ میں آج 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران ووٹنگ کا عمل جاری ہے، اورالیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کا یہ عمل صبح 9 سے لے کر شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔
پولنگ کے اس مرحلے میں صوبہ سندھ میں مختلف کیٹیگریوں کی مجموعی طور پر 5331 نشستوں پر 21298 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا، جبکہ اس ضلاع میں پہلے ہی سے 946 نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ کامیاب قرار پاچکے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق صوبہ سندھ کے ان 14 اضلاع میں ووٹرز کی کل تعداد 1 کروڑ 14 لاکھ 92 ہزار 680 ہے اور ان ووٹروں کے لئے 2 کروڑ 95 لاکھ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ان 14 اضلاع میں ووٹنگ لے لئے مجموعی طور پر 9290 ہزار پولنگ اسٹیشنز اور 29970 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے 1985 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور 3448 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق صونہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں خدمات انجام دینے کے لئے 1 لاکھ 2 ہزار 682 افراد پر مشتمل انتخابی عملہ تعینات کردیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق صوبہ سندھ کے لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص اور شہید بے نطیرآباد ڈویژن کے جن اضلاع میں پولنگ ہوگی ان میں شکارپور، جیکب آباد، قمبر شہداد کوٹ،کشمور، لاڑکانہ، کندھ کوٹ، گھوٹکی، خیر پور، شکارپور، نوشہرو فیروز، شہید بے نظیر آباد، سانگھڑ، میرپور خاص، عمر کوٹ اور تھر پارکر شامل ہیں۔
اس حوالے سے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ کے جن اضلاع میں پولنگ ہوگی ان اضلاع میں سے 887 یونین کونسلوں اور یونین کمیٹیوں کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کی مشترکہ 887 نشستوں میں سے 135 نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ اس طرح اب 752 نشستوں پر 3190 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔
اسی طرح ان اضلاع میں ضلع کونسلر کی مجموعی طور پر 794 نشستوں میں سے 107 پرپہلے سے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔ اسی لئے اب باقی ماندہ 687 نشستوں کے لیے 2604 امیدواروں میں انتخابی جنگ ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ان اضلاع میں یونین کمیٹی اور یونین کونسل کے وارڈز کونسلرز کی مجموعی طور پر 3548 نشستوں میں سے 622 پرپہلے ہی سے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔ اور اسی لئے اب باقی ماندہ 2926 نشستوں کے لیے 9744 امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے۔
الیکشن کمیشن کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ ٹاؤن کمیٹیوں کے وارڈ کونسلرز کی مجموعی طور پر 694 نشستوں میں سے 68 پرپہلے ہی سے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اب 626 پر 3325 امیدواروں میں مقابلہ ہوگا، جبکہ اس کے علاوہ
میونسپل کمیٹیوں کے وارڈز کونسلرز کی مجموعی طور پر 354 نشستوں میں سے پہلے ہی 14 پرامیدوار بلا مقابلہ منتحب ہوچکے ہی، جبکہ باقی ماندہ 340 پر نشتوں پر 2435 امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔
ادھرالیکشن کمیشنرسندھ اعجاز انور چوہان نے ان بلدیاتی انتخابات کے سیکورٹی کے حوالے سے اپنے دفتر میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولیس کے ساتھ رینجرزکی کوئیک رسپانس ٹیمیں بھی خدمات سرانجام دیں گی، جبکہ اس کے علاوہ فوج سے بھی رابطہ میں ہے۔ انھوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ بلدیاتی انتحابات کےالیکشن کوصاف اور شفاف بنانے کیلیے کیمرے لگائے گئے ہیں اوراس کے علاوہ سیکیورٹی کا ایک بہترین اورموثر نظام وضح کیا گیا ہے۔
سندھ کے الیکشن کمشنراعجاز انور چوہان نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران کسی قسم کی بھی بدامنی پھیلانے والوں کےخلاف سختی سے نمٹا جائے گا اور ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Related Posts