مینڈیٹ پارٹی قیادت کا ہوتا ہے، پارلیمانی پارٹی کا نہیں، قمرزمان کائرہ

Qamar zaman kaira Photo Facebook-640x480
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیر رہنما، قمر زمان کائرہ۔ فوٹو: فیس بک

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے سینیر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ سیاست دانوں کو سیاسی معاملات عدالتوں میں نہیں لے کر جانا چاہیے۔
مردان ٹائمز کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز سے تعلق رکھنے والے سینیر رہنما قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ہمیں کیسز عدالتوں میں نہیں، سیاست دانوں کو پارلیمان میں فیصلے کرنے چاہییں۔
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے سینیر رہنما قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ جب بھی سیاسی معاملات عدالتوں میں جاتے ہیں تو اس کے حوالے سے حکومت پارٹی اور اپوزیشن اپنی اپنی تشریح کرتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے میڈیا سے گفتگو کے دوران مزید کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا مینڈیٹ نہیں ہوتا کیونکہ پارلیمانی پارٹی تو الیکشن کے بعد کی پیداوار ہے، انھوں نے مزید کہا کہ اصل مینڈیٹ قیادت کا ہوتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا تحفظ یہ ہے کہ ایک ہی طرح کا عدالتی بینچ نہایت اہم کیسز کے فیصلے کر رہا ہے۔ قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کے دوران مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے کچھ معزز جج صاحبان کے کمنٹس پر بھی ہمارے شدید تحفظات ہیں، انھوں نے اس حوالےسے مزید کہا کہ اس سے ان ججز صاحان کی نیوٹریلٹی شدید متاثر ہوتی ہے۔
قمرزمان کائرہ نے کہا کہ ہم اس لئے چاہتے ہیں کہ اس کیس کے حوالے سے ایک فل کورٹ تشکیل دیا جائے اور اس معاملے پر تعطل دور کرنے کے لیے آگے کا فیصلہ دیا جائے۔‘

Related Posts