فیس بک بچوں اور جمہوریت کے لئے نقصان دہ جبکہ معاشروں میں تفرقہ بازیوں کا باعث بن رہاہے

France-hogan-previous-facebook-worker-640-480

نیویارک: حال ہی میں فیس بک کمپنی میں کام کرنے والی ایک سابق عہدیدار نے امریکی سینٹ میں اس بات کا انکشاف کیا کہ فیس بک کی مصنوعات بچوں اور جمہوریت کے لئے نہایت ہی نقصان دہ ہے جبکہ دوسری طرف یہ مختلف معاشروں میں تفرقہ بازیوں کا باعث بھی بن رہاہے.
مردان ٹائمز کو امریکہ سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق فیس کمپنی میں کار کرنے والی ایک سابق عہدیدار جس کا نام فرانس ہوگن بتایا جاتا ہے نے امریکی سینٹ کے روبرو اپنے ایک بیان میں اس بات کا انکشاف کیاہےکہ فیس بُک چھوٹے بچوں اور جمہوریت کے لئے نہایت ہی نقصان دہ ہے. جبکہ دوسری طرف یہ مختلف معاشروں میں تفرقہ بازیوں اور بگاڑ کا باعث بھی بن رہا ہے.
فیس بُک کے سابق عہدیدار، فرانس ہوگن، نے امریکہ کے سینٹ کیمیٹی کے روبرو اپنے بیان میں کہا کہ باوجود اسکے کہ فیس بُک انتظامیہ کو معلوم کہ سوشل میڈیا نیٹ ورک کو کیسے محفوظ بنایاجاسکتا ہے، وہ منافع کی غرض سے ایسا کرنے سے گریز کرہی ہے.
دوسری جانب فیس بُک انتظامیہ کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انتظامیہ کا کہنا کہ فرانسس ہیوگن جن چیزوں پر بات کررہی ہیں، اُنھیں ان موضوعات کا کچھ پتا ہی نہیں ہے.
واضح رہے کہ سوشل میڈیا کی نیٹورک فیس بُک دنیا کی سب سے بڑا نیٹ ورک ہے اور اس کے صارفین کی تعداد 2.7 ارب ہے. کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ فیس بُک کے علاوہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگ ان کے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم، جیسا کہ انسٹاگرام اور وٹس ایپ شامل ہیں، کو استعمال کررہے ہیں.
یاد رہے کہ دنیا کی سب سے مقبول ترین سوشل میڈیا نیٹ ورک اس وقت شدید تنقید کی ضد میں ہے. دُنیا بھر سے فیس بُک پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ اُنھوں نے اپنے صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت اور غیر درست معلومات کے پھیلاؤ کے لئے مناسب اقدامات نہیں اُٹھائے.
گزشتہ دنوں امریکہ کے سینٹ میں ڈیموکریٹک اور ریپبلیکن پارٹیوں کے ارکان نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کمپنی میں تبدیلی نہایت ضروری ہوگئ ہے. یہ پہلی ہے کہ جب دونوں جماعتوں کے اراکین کسی بات پر متفق نظر آئے ہیں.
فیس بُک کے سابقہ عہدیدارفرانسس ہیوگن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ فیس بُک کو یہ معلوم ہے کہ لوگوں کے غصے کو مزید ہوا دے کر ان کو اپنے صفحے پر زیادہ دیر تک روک سکتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے منافع میں مزید اضافہ ہوتا ہے. فرانسس ہیوگن نے مزید بتایا یکہ فیس بُک کو یہ بھی معلوم ہے کہ منافرت اور نفرت انگیز مواد کی تشہیر سے دنیا کے مختلف معاشروں میں بگاڑ اور نفرت پھیلتا ہے اور اس سے معاشروں کو شدید نقصان پہنچتا ہے لیکن منافع کی خاطر وہ انکو جاری رکھے ہوئے ہیں.
فیس بُک کے علاوہ فرانسس ہیوگن نے ایک اور مشہور سوشل میڈیا نیٹ ورک انسٹاگرام پر بھی سنگین الزامات عائد کئے ہیں. اُنھوں نے کہا کہ انسٹاگرام جو کہ فیس بُک کی ہی ملکیت ہے، فیس بُک انتظامیہ کی اپنی ریسرچ رپورٹ کے مطابق انسٹاگرام کے استعمال سے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر نہایت بُرے اثرات مرتب ہورہے ہیں. انسٹاگرام کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ فیس بُک کی اپنی ایک ریسرچ رپورٹ مرتب کی ہے جس کے مطابق بیس سال سے کم عمر کی تیرا فیصد لڑکیوں نے کہا کہ انسٹاگرام کو استعمال کرنے کی وجہ سے ان میں خودکشی کے رجحانات پیدا ہوئے ہیں.
فرانسس ہیوگن نے امریکی سینٹ سے اپنے بیان کے دوران مزید کہا کہ سوشل میڈیا کے نیٹ ورکس نوجوانوں میں ذہنی دباؤ کی وجہ بن رہے ہیں اور اسے بارے میں کافی سارا تحقیقی مواد موجود ہے. انسٹاگرام کے حوالے سے اُنھوں نے مزید بتایا کہ انسٹاگرام پر بہت سارے لوگ اپنی تصاویر پبلش کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں میں اپنی جسامت کے حوالے سے مختلف قسم کے منفی رجحانات اور خیالات پیدا ہوتے ہیں.
فیس بُک کے حوالے سے اُنھون نے کہا کہ جب میں فیس بُک کے ساتھ کام کررہی تھی تو ہم نے کئی بار صارفین اور منافع کی حفاظت میں مختلف قسم کی چپقلش دیکھی. اور فیس بُک نے ہر بار اپنے مالی منافع کو ترجیح دی ہے. اُنھوں نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ کانگریس فیس بُک کی نگرانی کی ذمہ داری خود کرے. کیونکہ کمپنی پر اگر یہ بات چھوڑی گئی تو ہمیشہ کی طرح وہ اپنے منافع کو ترجیح دے گی.
اُنھوں نے اس بات کا کھل کر اظہار کیا کہ "میں سمجھتی ہوں کہ اب بھی وقت ہے لیکن اس میں مزید دیر نہیں ہونی چاہئے”. فرانسس ہیوگن کے مطابق اُنھوں نے جو دستاویزات افشا کی ہیں ان مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیس بُک صارفین کی ڈیٹا کی حفاظت کی بجائے ہمیشہ اپنے مالی منافع کو ترجیح دیتی ہے.
دوسری جانب فیس بُک نے ان تمام الزامات کو گمراہ کُن قرار دیتے ہوئےکہا ہے کہ منافرت انگیز مواد کی تشہیر کو روکنے کے لئے انہوں نے چالیس ہزار ملازمین رکھے ہوئے ہیں. جو ہر وقت فیس بُک پر اسے مواد کی نشاندہی کرتے ہیں اور اُن پر ضروری کاروائی بھی کرتی ہے.
واضح رہے کہ فرانسس ہیوگن فیس بُک کی سابقہ عہدیدار ہے اور اُنھوں نے کمپنی میں کام کے دوران کمپنی کی اندرونی دستاویزات کی نقلیں تیار کی ہیں. فیس بُک کے ساتھ کام چھوڑنے کے بعد اُنھوں نے یہ دستاویزات اور معلومات وال سٹریٹ جرنل کو مہیا کیں. اس کے بعد وہ کئی دنوں سے مسلسل ان معلومات کو لمہہ بہ لمہہ لوگوں کے سامنے لارہی ہیں.
امریکی سینٹ کمیٹی کے سامنے اُنھوں نے اپنےبیان فیس بُک کے شیئر ہولڈرز کی جانب سے کمپنی پر دائر کئے گئے معدمے کا بھی انکشاف کیاہے. اس مقدمے میں فیس بُک نے کیمرج اینالٹکا ڈیٹا سکنڈل میں یو ایس ٹریڈ کمیشن کے ساتھ پانچ ارب ڈالر کے عوض سمجھوتے کا ذکر بھی کیا.
فرانسس ہیوگن نے فیس بُک کی لوگوں کے ساتھ برتاؤ پر بھی کڑی تنقید کی ہے. اُنھوں نے کہا کہ فیس بُک اپنے صارفین کے لئے دہرے معیار رکھتے ہیں. فیس بُک کا برتاؤ عام صارفین کے ساتھ برتاؤ مختلف ہے جبکہ مشہور شخصیات، سیاستدانوں سمیت ہائی پروفائل صارفین کے ساتھ برتاؤ مختلف ہے.

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on whatsapp

Related Posts