بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے طالبات بھی اجتماعی جنسی زیادتی کا شکار

gang-raped-girl-640x480

اسلام آباد: ممبر قومی اسمبلی حامد حمید نے یونیورسٹی طالبات کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملے کو آئیندہ کمیٹی اجلاس میں اُٹھانے کا عندیہ دے دیا ہے.
مردان ٹائمز کے مطابق قومی اسمبلی کے رُکن چوہدری حامد حمید نے گزشتہ روز قائمہ کیمٹی کے آئیندہ اجلاس میں اس معاملہ کو ُٹھانے کا عندیا دے دیا ہے. انھوں نے بتایا کہ ہاسٹل میں رہائش پزیر طالبات ہاسٹل کا وقت ختم ہونے کے بعد باہر نکلتی ہیں. جبکہ یونیورسٹی کی انتظامیہ اس معاملہ کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے.
رُکن حامد حمید نے مزید بتایا کہ میں بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے اس معاملے کو اگلے اجلاس میں لے کر آؤں گا کیونکہ ان طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوئی ہیں. انھوں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایف ٹین مرکز کے ایک نجی ہسپتال میں بچیوں کو داخل کروایا گیا جس کے بعد ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک وارڈن کو تفتیش کے لئے لے گئے. اُنھوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد اسپتال کے انتظامیہ نے ریکارڈ کو ضائع کردیا ہے، لیکن ہم اسے کی تفصیلات آئیندہ اجلاس میں طلب کریں گے.
یہ خبر بھی پڑھیں: لاپتہ افراد کی زمہ دار وزیراعظم اور کابینہ پر عائد ہوتی ہے. اسلام آباد ہائی کورٹ
اُدھر اسلامک یونیورسٹی کے ترجمان نے اس حوالے سے ایک بیان میں اس خبر کو رد کرتے ہوئے کہا ہے یہ خبر بالکل غلط اور بے بُنیاد ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہں. بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کی جانب سے ہراسانی کے متعلق ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو اس قسم کے واقعات کو دیکھتی ہے.
اس حوالے سے بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے ترجمان نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے مذکورہ کمیٹی کو کسی قسم کی کوئی اطلاع یا شکایت نہیں کی گئی. اس کے علاوہ یونیورسٹی کے سیکورٹی آفس کو بھی کوئی اطلاع نہیں دے دی گئی. ترجمان بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی نے بتایا کہ ایسی کسی بھی قسم کی شکایت یا واقعے پر یونیورسٹی کی جانب سے سخت ایکشن لیا جاتاہے.

Related Posts