تحریک عدم اعتماد: پارلیمینٹ لاجز میں ایم این ایز کی گرفتاریاں، اگر مجھے گرفتار کیا گیا تو ملک بھر میں دما دم مست قلندر ہوگا، مولانا فضل الرحمان

Fazli Rahman Speech

اسلام آباد: رات گئے اسلام آباد پولیس نے پارلیمنٹ لاجز سے انصارالاسلام کے اراکین کی بےدخلی کے لئے آپریشن کا آغاز کیا جس کے دوران قومی اسمبلی اراکین سمیت 21 افراد کو گرفتار کرلیا گیا جس پر جے یو آئی نے آج صبح تک الٹی میٹم دے دیا.
مردان ٹائمز کے مطابق جے یو ائی کے رضاکار فورس کے پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہونے پر اسلام آباد پولیس کے سربراہ احس یونس نے بے دخلی کے لئے آپریشن کیا. آئی جی احن یونس نے اس معاملے پر ڈی چوک پر قائم ناکہ انچارج، پارلیمنٹ لاجز کے انچارج اور لائن آفیسر کو فوری طور پر معطل کردیا.
اس موقع پر اسلام آباد کے آئی جی سمیت بھاری نفری انصارالاسلام فورس کو پارلیمنٹ لاجز سے ہٹانے کے لئے پہنچی تو جے یو ائی کے رکن اسمبلی صلاح الدین ایوبی اور پولیس کے دوران تکرار ہوئی جو وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرگئی. اس موقع پر صلاح الدین ایوبی نے آئی جی سے مخاطب ہوکرکہا کہ "یہ ہمارے مہمان ہیں اور قانون کے مطابق یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں، یہ غیرمسلح لوگ ہیں جن سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں‌ہونا چاہیے’.
مزید تفصیلات کے مطابق اس دوران جب بات نہ بنی تو آئی جی نے پارلیمنٹ لاجز میں آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے میڈیا نمائیندوں کو بھی باہر نکالنے کی ہدایت کی. اس دوران قومی اسمبلی کے رکن آغا رفیع اللہ اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی. قومی اسمبلی کے رکن آغا رفیع اللہ نے آئی جی سے کہا کہ آئی جی کا یہاں کیا کام، میری گاڑی کو کیوں روکا اور پولیس یہاں کیسے داخل ہوئی. انہوں نے پولیس کو پیچھے دھکیل کر رکاوٹ کو خود ہٹادیا.
اس دوران اسلام آباد پولیس نے آپریشن کے دوران جے یو آئی کے ایم این اے سمیت 21 افراد کو حراست میں لے کر تھانے پہنچادیا. اس حوالے سے وزیرداخلہ شیخ ریشیدنے کہا کہ کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ وہ اپنی مشہوری کے لئے خود تھانے میں بیٹھے ہوئے ہیں.
حکومتی رویے پر جے یو آئی نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا اور تمام شاہراہیں بلاک کردیں. اس موقع پر مولانا فصل الرحمان کی ہدایت پر جے یو آئی اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کے کارکنان نے کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ، پشاور، راولپنڈی سمیت دیگر شہروں اور علاقوں میں شدید احتجاج شروع کیا. تاہم بعد میں مولانا فضل الرحمان کال دی کہ اور وفاقی حکومت کو الٹی میٹم دے کر مطالبہ کیا ہے کہ آج صبح تک تمام کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے.
میڈیا سے گفتگو کےدوران انھوں نے کہا کہ "اگر کل تک ہمارے تمام ساتھیوں کو رہا نہ کیا گیا اور ہمارے جائز مطالبات نہ مانے گئے تو صبح ہوتے ہی 9:00 بجے ہم سڑکوں پر موجود ہونگے. انھوں نے مزید کہا کہ اگر حالات بگڑ گئے تو اس کی زمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی. میڈیا سے گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ مجھے گرفتار کیا گیا یا ایسی کوشش کی گئی تو پھر تو ملک بھر مین دما دم مست قلندر ہوگا”.

Related Posts