ٹی ٹونٹی 2010 سیمی فائنل، سعید اجمل بقابلہ مائکل ہسی

Pak-vs-Australia-Semi-Final-2010_640x480

اسلام آباد: یہ سنہ 2010 کی بات ہے جب پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹونٹی عالمی کپ کے لئے سیمی فائنل جاری تھی جو کہ بظاہر پاکستان کے حق میں تھی لیکن مائکل ہسی کی بیٹنگ نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا.
ویسے تو کھیل میں کئی ناقابل یقین واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن ان کھیلوں میں کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ اگلے بال پر کیا پیش آنے والا ہے. مردان ٹائمز آج اسی کھیل کے بارے میں ایک دلچسپ واقع آپ کے سامنے پیش کرتا ہے.
ہوا کچھ یوں کہ 20210 میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سینٹ لوشیا میں سیمی فائنل میچ شروع تھا. پاکستان نے پہلے بیٹنگ کی تھی اور آسٹریلیا ہدف کے تعاقب میں اُس وقت مشکلات کا شکار ہوا جب اُس کی بیٹنگ لائن کے ابتدائی 6 وکٹیں پاکستانی باؤلروں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی. جب میچ 13 ویں اوور میں داخل ہوئی تو ڈیوڈ ہسی بھی اپنی وکٹ گنوا بیٹھے اور اُن کی جگہ اُس کے بڑے بھائی مائیکل ہسی بیٹنگ کے لئے کریز پر آگئے.
اس وقت آسٹریلیا کا سکور پانچ وکٹوں پر 105 رنز تھا. اس کا مطلب یہ تھا کہ اب بھی آسٹریلیا کو 2010 ٹی ٹونٹی کا سیمی فائنل جیتنے کے لئے 87 رنز درکار تھے اور اُس کے پاس صرف 45 گیندیں باقی تھی.
جیسے ہی میچ 17 اوور میں داخل ہوا تو کیمرون بھی پانچ چھکوں کی مدد سے 43 رنز کا جارہانہ اننگز کھیل کر آؤٹ ہوگئے. اس کے بعد پاکستانی کوچ اور اُن کے ساتھ دیگر کھلاڑیوں نے سکون کا سانس لیا. اس کے بعد آسٹریلیا کو 21 گیندوں پر 53 رنز درکارتھیں. لیکن کسی کو بھی پتہ نہیں تھا کہ اگلے تین اوورز میں کیا کچھ ہونے والا ہے.
اس کے بعد مائیکل ہسی نے اپنی جارہانہ اننگز کا آغاز کردیا. اور سب سے پہلے پاکستان کپتان شاہدآفریدی اُن کی زد میں آئے، جب اُنکوآخری اوور میں دو چھکے لگا دیے گئے. جب سعید اجمل نے اپنا تیسرا اوور شروع کیا تو اس میں آسٹریلیا کی ستیوسمتھ کی وکٹ گر گئی، لیکن اسی اوور میں مچل جانسن کے چوکے اور مائیکل ہسی کے زوردار چھکے نے آسٹریلوی امیدوں کو ابھی برقرار رکھا.
جب میچ کا 19 واں اوور ختم ہوا جو کہ محمد عامر نے کیا تو اس میں آسٹریلیا نے 16 رنز بنائے اور اسی طرح آسٹریلیا کو آخری اوور میں 18 رنز درکار تھے.
یہ خبر بھی پڑھیں: تیسرا ٹی-20: پاکستان نےانگلینڈ کو 155 رنز کا ہدف دے دیا
سیمی فائنل کے آخری اوور کے لئے پاکستان کپتان شاہد افریدی کے پاس ایک ہی راستہ باقی تھا کہ وہ پاکستان کی اُس وقت کے سب سے بہترین اور تجربہ کار باؤلر سعید اجمل کو گیند تما دیں. اگر چہ شاہد آفریدی کے پاس عبدالرزاق کی شکل میں ایک میڈیم پسر بھی موجود تھا. لیکن چونکہ اس کے ابتدائی دو اوورز میں 22 رنز بن چکے تھے اس لئے وہ اُن کو گیند نہیں دینا چاہتے تھے.
جب میچ کا آخر اوور شروع ہوا تو سعید اجمل کا سامنا مچل جانسن سے ہوا جس نے پہلے ہی گیند پر ایک رن لے کر مائکل ہسی کو سامنے لے آئے. دوسری ہی گیند پر مائکل ہسی نے پُل شارٹ کھیل کر گیند کو شائقین تک پہنچا دیا. تیسرے گیند پر بھی مائکل ہسی نے اپنا جارہانہ کھیل جاری رکھا اور اس مرتبہ گیند لانگ آن کے باہر جاگری. جبکہ چوتھی گیند ہسی نے آف سٹمپ کی باہر کی جانب کھیلی جس پر مائکل ہسی نے کٹ کیا، جو کہ بیک ورڈ پوائینٹ پر ہوا میں اچھلنے والے سلمان بٹ کے ہاتھوں سے لگ کر باؤنڈری کی جانب چلی گئی. اور اسی طرح پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیمی فائنل کا سکور برابر ہوا.
اگلے ہی گیند پر مائکل ہسی نے میچ کو ایک اور زوردار چھکے سے ختم کرکے آسٹریلیا کو فائنل میں پہنچا دیا. چھکا لگتے ہی آسٹریلوی کھلاڑی ڈگ آؤٹ سے نکل کر میدان میں کود پڑے. جبکہ دوسری جانب سعید اجمل میدان میں نہایت ہی افسردہ بیٹھے تھے اور پاکستان کرکٹر ساتھی اُنھیں حوصلہ دینے کی کوشش کر رہے تھے.

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on whatsapp

Related Posts