مسلم لیگ ق کے صدر کے خط کی اہمیت نہیں تو پھر 20 ڈی سیٹ کئے گئے ایم پی ایز کا قصور کیا تھا؟ پیپلز پارٹی

Shazia Atta Marri Photo Facebook 640x480
شازیہ مری، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی ترجمان۔ فوٹو: فیس بک

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر اور ترجمان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری نے کہا ہے کہ اگر پارلیمانی پارٹی صدر کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل کرنے کی پابند ہے اور جو کل تک صحیح تھا تو یہ آج کیسے غلط ہو گیا؟
مردان ٹائمز کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے پر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت موقف آگئی ہے اور اس حوالے سے وفاقی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کی ترجمان شازیہ مری نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اور سوال اُٹھایا ہے کہ مسلم لیگ (ق) کے صدر کے خط کی اہمیت نہیں ہے تو پھر اس سے پہلے سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن کی جانب سے 20 ڈی سیٹ کیے گئے ایم پی ایز کا قصور کیا تھا؟
وفاقی وزیر شازیہ مری نے مزید کہا کہ ہم اس حوالے سے پوچھتے ہی رہیں گے کہ سید یوسف رضا گیلانی سے انصاف کیوں نہیں ہوا؟ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے بارے میں تمام قوانین موم بن جاتے ہیں۔
یہ خبر بھی پڑھیں: ہم سے ایسے یک طرفہ فیصلوں کے سامنے سر جھکانے کی توقع نہ رکھی جائے، مریم نواز
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کی ترجمان اور وفاقی وزیر شازہ مری نے مزید کہا کہ صدر عارف علوی، عمران خان اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے واضح طور پر آئین شکنی کرکے آئین کو پامال کی تھی۔ شازیہ مری نے پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اداروں کی توہین کرتے ہیں مگر ان کی دھمکیاں بھی توہین کے زمرے میں نہیں آتیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کی ترجمان شازیہ مری نے سوال اُٹھایا کہ ایک طرف جب پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان نے اپنے ایم پی ایز کو ووٹ کے بارے میں ہدایت دی تو وہ جائز تھی اور اگر وہی ہدایت مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت نے دی تو یہ کیسے ناجائز ہو گئی؟

Related Posts